غزہ کی جانب تاریخ کا سب سے بڑا انسانی ساحلِ امید
غزہ کی پٹی، جو برسوں سے ایک کھلی جیل میں تبدیل کی جا چکی ہے، اس وقت انسانی تاریخ کے سیاہ ترین دور سے گزر رہی ہے۔ اسرائیلی محاصرے نے وہاں کے باسیوں کو خوراک، دوا، پانی اور روشنی جیسی بنیادی ضروریات سے محروم کر دیا ہے۔ عالمی اداروں کے مطابق محض غذائی قلت کے باعث اب تک 340 سے زیادہ افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جن میں 124 معصوم بچے بھی شامل ہیں۔ ایسے میں انسانیت نے اپنا سر اٹھایا ہے اور "گلوبل صمود فلوٹیلا” نامی بحری قافلہ امید کی ایک کرن بن کر ابھرا ہے۔
یہ کوئی عام امدادی مہم نہیں، بلکہ دلوں کی ایک اجتماعی آواز ہے، جو بارسلونا کے ساحل سے 31 اگست 2025 کو روانہ ہوئی۔ اب تک اس میں 70 سے زائد بحری جہاز شامل ہو چکے ہیں، جو تیونس سے ہوتی ہوئی غزہ کے راستے پر ہیں۔ "صمود” کا لفظ فلسطینی عوام کے استقامت بھرے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ قافلہ محض سامانِ خیرات لے کر نہیں جا رہا، بلکہ ایک عالمی احتجاج ہے جو محاصرے کو توڑنے اور مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہونے کا پیغام لے کر چل رہا ہے۔
قافلے میں 44 ممالک کے 300 سے زیادہ رضاکار شامل ہیں—ڈاکٹر، صحافی، سماجی کارکن، سیاستدان اور بین الاقوامی شخصیات جیسے گریٹا تھنبرگ، لیام کننگھم، اور ایڈا کولاؤ۔ یہ جہاز غزہ والوں کے لیے زندگی بچانے والا سامان لے کر جا رہے ہیں۔
ابتدائی طور پر خراب موسم کی وجہ سے قافلے کو واپس لوٹنا پڑا، لیکن یکم ستمبر کو یہ دوبارہ روانہ ہو گیا۔ راستے میں تیونس میں مزید جہاز شامل ہوں گے۔ امید ہے کہ 11 ستمبر تک یہ غزہ کے پانیوں کے قریب پہنچ جائے گا، جہاں اسرائیلی بحریہ کی طرف سے ممکنہ رکاوٹیں کھڑی کی جا سکتی ہیں۔ گزشتہ مہینوں میں دو امدادی جہازوں کو روک کر ان کے مسافروں کو تشدد کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ پھر بھی، اس قافلے کے مسافر ہمت ہارنے والے نہیں۔
اسرائیلی وزیر ایتمار بن گویر کی دھمکیاں ("قافلے والوں کو قید کیا جائے گا، ٹی وی اور خاص کھانے بند کر دیے جائیں گے”) درحقیقت اس بات کا اعتراف ہیں کہ یہ مہم اسرائیل کے لیے ایک چیلنج بن چکی ہے۔ یہ دھمکیاں اس عالمی یکجہتی کی طاقت کو بھی ظاہر کرتی ہیں جو اب ہر طرف پھیل رہی ہے۔
یہ قافلہ صرف مال برداری نہیں، بلکہ ایک زندہ احتجاج ہے۔ جیسا کہ گریٹا تھنبرگ نے کہا:
"یہ ہمارے سفر کے بارے میں نہیں، بلکہ فلسطین کے بارے میں ہے—اس بات کے بارے میں کہ کیسے لوگوں کو جان بوجھ کر بھوکا رکھا جاتا ہے۔”
لیام کننگھم نے ایک شہید بچی فاطمہ کی کہانی سناتے ہوئے کہا کہ یہ قافلہ اس بات کی علامت ہے کہ دنیا اب خاموش نہیں بیٹھے گی۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اس آواز کو مضبوطی سے اٹھائے۔ ہر لفظ، ہر تصویر، ہر دعا اس قافلے کے ساتھ ایک ڈھال ہے۔ سوشل میڈیا پر #GlobalSumudFlotilla اور #BreakTheSiege کے ہیش ٹیگز کے ذریعے اسے مزید طاقت دی جا رہی ہے۔
اگلا مرحلہ تیونس میں مزید جہازوں کے اضافے کا ہے، پھر غزہ کی جانب پیش قدمی۔ ماضی میں امدادی جہازوں پر حملے ہو چکے ہیں، جیسے 2010 میں "ماوی مرمرہ” کے ساتھ ہوا، جب دس کارکن شہید کیے گئے۔ لیکن اس بار امید ہے کہ عالمی دباؤ محاصرہ توڑنے میں کامیاب ہوگا۔
قافلے کے شرکاء کی demands واضح ہیں:
- غزہ کا محاصرہ فوری اٹھایا جائے۔
- امداد کے لیے مستقل راہداری کھولی جائے۔
- فلسطینیوں کے بنیادی انسانی حقوق تسلیم کیے جائیں۔
گلوبل صمود فلوٹیلا محض جہازوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ انسانیت کے ضمیر کی بحری ہے۔ یہ استقامت، یکجہتی اور امید کی ایک زندہ مثال ہے۔ جب یہ قافلہ 11 ستمبر کو غزہ کے پانیوں کے قریب پہنچے گا، تو پوری دنیا دیکھ رہی ہوگی — کہ آیا انسانیت کی آواز، ظلم کی دیواروں کو توڑ سکتی ہے یا نہیں۔
—
حوالہ جات:
- Middle East Eye
- Al Jazeera
- Eastern Herald
- CGTN
- CBS News
- Gulf News
